
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر Donald Trump نے ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورتِ حال سے خوفزدہ نہیں، حتیٰ کہ اگر حالات "ویتنام جنگ” جیسے بھی ہو جائیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے Sky News سے گفتگو میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ ایران میں "بوٹس آن دی گراؤنڈ” یعنی زمینی فوج بھیجتا ہے تو اسے "ایک اور ویتنام” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صحافی کے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا:
"نہیں، میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا… میں واقعی کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہوں، چاہے یہ ویتنام جیسا ہی کیوں نہ بن جائے۔”

پس منظر اور خدشات
"ایک اور ویتنام” کی اصطلاح امریکی تاریخ کے ایک نہایت حساس اور متنازع باب کی یاد دلاتی ہے۔ Vietnam War کے دوران تقریباً 58 ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ کے اختتام پر 1975 میں امریکہ کو انخلا کرنا پڑا، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے بڑے اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک میں زمینی جنگ نہ صرف طویل اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس کے علاقائی اثرات بھی انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایران کے پاس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والی اتحادی قوتیں اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی بھی موجود ہے، جو کسی بھی ممکنہ تصادم کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
عالمی ردعمل اور ممکنہ اثرات
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات کا مرکز ہے، اور کسی بڑی فوجی کارروائی سے عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ چکا ہے یا ایک بار پھر کسی طویل اور غیر یقینی جنگ میں الجھنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
اگرچہ فی الحال کسی فوری زمینی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بڑھتی ہوئی بیان بازی نے عالمی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی یا عسکری کشیدگی کس رخ اختیار کرتی ہے، اس پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔



