ایرانتازہ ترین

ایران میں احتجاجی تحریک پر خدشات، سخت کریک ڈاؤن کی وارننگ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوبارہ آغاز کی صورت میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکی سفارتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی عوام سڑکوں پر نکلے تو انہیں سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ Iran کا نظامِ حکومت اب بھی مضبوط ہے اور کسی بھی عوامی بغاوت کو سختی سے کچلنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

خفیہ سفارتی پیغام میں کیا کہا گیا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفارتخانے کی جانب سے تیار کردہ ایک سفارتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت "آخر تک لڑنے” کے لیے تیار ہے اور حالیہ حالات کے باوجود اس کے کنٹرول میں کوئی نمایاں کمزوری نظر نہیں آ رہی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ اگر ماضی کی طرح بڑے پیمانے پر مظاہرے دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو ایرانی سیکیورٹی فورسز سخت کارروائی کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔

ماضی کے مظاہروں کا پس منظر
یاد رہے کہ گزشتہ برسوں میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس پس منظر میں نئی ممکنہ تحریک کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف اور تضاد
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف اسرائیلی قیادت عوامی سطح پر ایرانی شہریوں کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتی رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی کسی بھی تحریک کو سختی سے کچلا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے حالیہ بیانات میں ایرانی عوام سے کہا ہے کہ وہ "اپنی آزادی کے لیے آگے بڑھیں”، تاہم ماہرین اس بیان اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

مریکی پالیسی میں تبدیلی؟
رپورٹس کے مطابق Donald Trump کی پالیسی میں بھی حالیہ مہینوں میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ابتدائی طور پر مظاہرین کی حمایت کی بات کی گئی، تاہم اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی احتجاج کو سختی سے دبایا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق فی الحال واشنگٹن ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے براہِ راست اقدامات پر کام نہیں کر رہا۔

طاقت کا توازن برقرار
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی سیکیورٹی فورسز، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، اب بھی طاقتور پوزیشن میں ہیں اور حکومت کے کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزید یہ کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت برقرار رہنا بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاستی ڈھانچہ اب بھی فعال اور منظم ہے۔

اگرچہ ایران میں عوامی بے چینی کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی بھی بڑے احتجاجی اقدام کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر ہوا تو اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں — اور کیا خطہ مزید عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button