
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے سینئر سیکیورٹی رہنما Ali Larijani کی ہلاکت سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق وہ ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے اور قریبی ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حملہ تہران کے شمال مشرقی علاقے پردیس میں ان کی بیٹی کے گھر پر کیا گیا، جہاں وہ موجود تھے۔ اس حملے میں ان کے بیٹے Morteza Larijani، ایک معاون اور دیگر ساتھی بھی ہلاک ہوئے۔
ایران نے بدھ کی شب باضابطہ طور پر ان کی موت کی تصدیق کی، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
حملے کا پس منظر
رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ چند روز قبل لاریجانی تہران میں یومِ القدس کی تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایران کے اعلیٰ سطحی سیکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

لاریجانی کون تھے؟
علی لاریجانی ایران کی طاقتور سیاسی اور مذہبی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں متعدد اہم عہدوں پر کام کیا، جن میں پاسدارانِ انقلاب میں خدمات، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی، پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر 12 سالہ دور، اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی قیادت شامل ہیں۔
وہ ایران کے جوہری مذاکرات، علاقائی تعلقات اور داخلی سیکیورٹی پالیسیوں میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق لاریجانی کی ہلاکت ایران کے سیکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کا نظام اس طرح کے نقصانات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ایران کی جانب سے ردعمل کا امکان بھی موجود ہے۔
علی لاریجانی کی ہلاکت نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ اس واقعے کے بعد ایران کی حکمت عملی کیا رخ اختیار کرتی ہے اور خطے کی صورتحال کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔



