تازہ ترینسعودی عرب

ریاض میں عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ، ایران کے حملوں کی شدید مذمت

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ریاض: عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد ایران کے حالیہ حملوں کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تہران سے فوری طور پر جارحانہ اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، قطر، سعودی عرب، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، اردن، آذربائیجان اور ترکی پر مبینہ حملوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈے، رہائشی عمارتیں، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور سفارتی مشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات کو کسی بھی جواز کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اور تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

ایران سے فوری اقدامات کا مطالبہ

اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام کرے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتکاری کو ہی واحد راستہ بنایا جائے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے، ان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور اپنی عسکری صلاحیت کو خطے کے خلاف استعمال نہ کرے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد اور علاقائی خدشات

اجلاس میں ایران سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2817 (2026) پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا، جس میں حملوں کے فوری خاتمے اور اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کی تاکید کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، ایران پر زور دیا گیا کہ وہ عرب ممالک میں سرگرم مسلح گروہوں کی حمایت، مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کرنے سے باز رہے، کیونکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔

آئندہ لائحہ عمل

اعلامیے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شریک ممالک باہمی مشاورت اور رابطہ جاری رکھیں گے تاکہ خطے میں بدلتی صورتحال کا مشترکہ طور پر جائزہ لیا جا سکے اور اپنی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button