ایرانتازہ ترین

ٹرمپ کا ایران کو انتباہ : قطر پر حملہ دہرایا تو دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا جائے گا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن/دوحہ/تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ قطر پر حملہ کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان نے پہلے ہی نازک صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

گیس فیلڈ پر حملہ اور عالمی منڈی میں ہلچل

رپورٹس کے مطابق ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حالیہ حملے کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھی گئی، اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ گیس فیلڈ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور عالمی سپلائی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی دوران قطر نے بھی تصدیق کی کہ ایک بیلسٹک میزائل اس کے اہم گیس تنصیب سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ واقعے کے بعد قطر نے ایرانی سفارتخانے کے بعض اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا۔

آبنائے ہرمز بندش کے دہانے پر

ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہونے کے قریب ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

اسرائیل-ایران کشیدگی میں اضافہ

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے، جو حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کے خلاف ہونے والی بڑی کارروائیوں میں شامل ہے۔ ان واقعات نے ایران کے اندر سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ان حملوں کے بعد ایک غیر معمولی بیان میں سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔

مغربی کنارے میں بھی جانی نقصان

ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں میں سے ایک مغربی کنارے کے علاقے بیت عوا میں آ گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ ایک کلسٹر وارہیڈ تھا جو دفاعی نظام کو عبور کر گیا۔

قطر کے قریب بحری واقعہ

ادھر قطر کے ساحل کے قریب ایک جہاز پر بھی پروجیکٹائل گرنے کی اطلاع ہے، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ برطانوی بحری نگرانی ادارے کے مطابق یہ واضح نہیں کہ جہاز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا یا یہ میزائلوں کے ملبے کا نتیجہ تھا۔

خطہ خطرناک موڑ پر

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں براہ راست ریاستی تصادم، توانائی تنصیبات پر حملے اور عالمی تجارتی راستوں کی بندش جیسے خدشات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں اس وقت سب سے اہم ضرورت بن چکی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button