
واشنگٹن/بحیرہ احمر: امریکہ کا جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں سے عارضی طور پر الگ ہو کر مرمت کے لیے بحیرہ روم میں واقع امریکی اڈے کی جانب روانہ ہو گیا ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق جہاز میں گزشتہ ہفتے لانڈری ایریا میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد اسے فوری مرمت کی ضرورت پیش آئی۔ اس واقعے میں دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کر دی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
جنگ کے دوران اہم پیش رفت
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور ایران کی بحری و میزائل صلاحیت کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ امریکی بحریہ کا سب سے جدید طیارہ بردار جہاز ہے، جو خطے میں امریکی لڑاکا طیاروں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا تھا۔

مرمت کے لیے کریٹ کا رخ
حکام کے مطابق جہاز کو عارضی طور پر یونان کے جزیرے کریٹ میں واقع سوڈا بے نیول بیس لے جایا جا رہا ہے، جہاں ابتدائی مرمت کی جائے گی۔ بعد ازاں مزید تفصیلی مرمت اس کے ہوم پورٹ پر کی جا سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ کے دیگر جنگی جہاز بدستور خطے میں موجود رہیں گے اور اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
اندرونی نقصانات اور عملے پر اثر
رپورٹس کے مطابق آگ بجھانے اور اس کے بعد صفائی کے عمل میں تقریباً 30 گھنٹے لگے، جبکہ جہاز کے اندرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا۔ تقریباً 600 اہلکاروں کو عارضی طور پر اپنی رہائش تبدیل کرنا پڑی، کیونکہ کچھ حصے دھوئیں اور پانی سے متاثر ہوئے تھے۔
امریکی فوجی موجودگی برقرار
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایک اہم طیارہ بردار جہاز کا عارضی طور پر ہٹنا ایک نمایاں پیش رفت ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی موجودگی بدستور مضبوط ہے۔ دیگر بحری جہاز اور فضائی یونٹس اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خطے کی صورتحال پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے امریکہ کی فوری آپریشنل صلاحیت پر محدود اثر پڑ سکتا ہے، لیکن مجموعی حکمت عملی پر بڑا اثر متوقع نہیں۔ تاہم یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل جنگی تعیناتیوں کے دوران تکنیکی اور لاجسٹک مسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہر چھوٹی بڑی پیش رفت اہمیت اختیار کر چکی ہے، اور آنے والے دنوں میں امریکی فوجی حکمت عملی میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔



