
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
غزہ/قاہرہ: مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ دونوں اطراف کے لیے کھول دیا گیا ہے، جسے جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم انسانی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رفح کراسنگ کئی ہفتوں کی بندش کے بعد دوبارہ فعال ہوئی ہے، جس کے تحت غزہ کے بیمار افراد کو علاج کے لیے مصر جانے اور مصر میں موجود فلسطینیوں کو واپس غزہ آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
مریضوں کی منتقلی کا آغاز
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 25 مریضوں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ رفح کراسنگ منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں بیرون ملک یا مصر کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے بھیجا جائے گا۔
ادھر مصری حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے علاج کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور بارڈر پر خصوصی میڈیکل پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
امدادی سرگرمیاں اور سہولیات

مصری ہلال احمر کی ٹیمیں بارڈر پر موجود ہیں جو واپس آنے والے فلسطینیوں کو امدادی سہولیات، نفسیاتی مدد اور خوراک فراہم کر رہی ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سخت سکیورٹی اور نگرانی
رپورٹس کے مطابق کراسنگ کے ذریعے آمد و رفت سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت ہو رہی ہے۔ اسرائیلی منظوری اور یورپی یونین کی نگرانی میں لوگوں کی جانچ پڑتال کے بعد داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
پس منظر: طویل بندش اور بحران
رفح کراسنگ کو اس سے قبل سکیورٹی صورتحال کے باعث بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریض اور عام شہری پھنس کر رہ گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق غزہ میں تقریباً 22 ہزار افراد کو فوری طبی امداد کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے۔
مجموعی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ کراسنگ کا کھلنا ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم سخت پابندیوں اور محدود نقل و حرکت کے باعث مکمل ریلیف ابھی بھی ممکن نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کراسنگ مستقل طور پر کھلی رہی تو اس سے نہ صرف انسانی بحران میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔



