
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نیا عسکری محاذ قائم کر دیا ہے۔ اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول کے لیے امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر ایرانی بحری اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ایران بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ نے کم بلندی پر پرواز کرنے والے A-10 وارتهوگ طیارے اور اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز تعینات کیے ہیں، جو ایرانی تیز رفتار کشتیوں اور ڈرونز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان تمام اہداف کے خلاف کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ آپریشن خاص طور پر ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں تک پھیلایا گیا ہے، جہاں سے ایرانی فورسز آبنائے ہرمز میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک ایران کی 100 سے زائد بحری کشتیوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے چھوٹی بارودی کشتیوں، خودکش ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے شروع کر دیے ہیں، جو امریکی اور اتحادی جہازوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے، اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد اب تک صرف محدود تعداد میں بحری جہاز اس راستے سے گزر سکے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی حکام اس راستے کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت جنگی بحری جہاز تجارتی ٹینکرز کو اسٹریٹ کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کریں گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے راستے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ادھر عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز نے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے، تاہم بعض ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ فوری فوجی مداخلت کے بجائے جنگ بندی کے بعد کسی مشترکہ منصوبے کا حصہ بنیں گے۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے بھی توانائی کی ترسیل کو مستحکم بنانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز سے اب تک 40 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود ایران اب بھی لاکھوں بیرل تیل برآمد کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، جس میں چین ایک بڑا خریدار ہے۔ بعض غیر ملکی جہاز، جن میں پاکستانی اور بھارتی ٹینکرز بھی شامل ہیں، احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ جاپان سمیت اتحادی ممالک کو اس آپریشن میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ان کی توانائی کی بڑی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل بھی ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم امریکی دباؤ کے بعد اس نے بعض توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے عارضی طور پر گریز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک مکمل بحری اور فضائی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں صرف چند کلومیٹر چوڑا یہ سمندری راستہ عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور علاقائی استحکام کے لیے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو توانائی بحران، مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اس جنگ کا سب سے اہم ہدف بن چکی ہے۔



