
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں ایران سے متعلق کشیدگی اور خلیج فارس میں توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود سرمایہ کاروں کو کسی حد تک اعتماد بحال ہونے کا اشارہ ملا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں، جب امریکہ اور اسرائیل کی قیادت نے مارکیٹ کو یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ توانائی سپلائی مکمل طور پر متاثر نہیں ہوگی اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 107 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 94 ڈالر کے قریب رہی۔ یہ کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں موجود “جنگی پریمیئم” کچھ حد تک کم ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں حالیہ حملوں کے باعث توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پیدا ہوئی تھی، کیونکہ یہ خطہ عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی بیانات کے بعد خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے واضح کیا کہ امریکہ کسی بڑے پیمانے پر زمینی جنگ میں داخل نہیں ہو رہا، جس سے مارکیٹ کو یہ پیغام ملا کہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف نہیں جا رہی۔ اس بیان نے بھی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں عارضی کمی آئی ہے، لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ خلیج میں کسی بھی نئی کشیدگی یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ عالمی سپلائی کو فوری متاثر کر سکتی ہے، جس سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہیں، جن میں اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال، متبادل راستوں کی تلاش، اور بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر تیل کی مارکیٹ اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جہاں ایک طرف جنگی خدشات موجود ہیں، تو دوسری جانب عالمی طاقتوں کی جانب سے استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ خطے میں کشیدگی کس حد تک کم یا زیادہ ہوتی ہے۔



