ایرانتازہ ترینمعیشت

ایران کی توانائی حکمت عملی، عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ صرف ایک روایتی فوجی تصادم نہیں رہی بلکہ اب یہ عالمی توانائی اور معیشت کی جنگ میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران ایک ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جسے “اسٹریٹجک ٹریپ” یعنی اسٹریٹجک جال کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد اپنے مخالفین کو طویل اور پیچیدہ تنازع میں الجھانا ہے۔

تجزیوں کے مطابق ایران براہِ راست عسکری برتری حاصل نہ ہونے کے باوجود توانائی کے شعبے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں میں خلل ڈال کر وہ عالمی تیل و گیس سپلائی کو متاثر کر رہا ہے، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے، تاکہ وہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کو روکنے پر مجبور ہو جائیں۔ تاہم اس کا الٹا اثر بھی سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں رکاوٹ نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ بحران 1970 کی دہائی کے بعد توانائی کے شعبے کا سب سے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی مہنگائی اور معاشی سست روی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان پالیسی سطح پر ہم آہنگی بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں ابتدائی طور پر ان کے اہداف مختلف تھے، اب ایران کی توانائی پر مبنی حکمت عملی نے انہیں ایک مشترکہ مؤقف کی طرف دھکیل دیا ہے کہ اس تنازع کا خاتمہ آسان نہیں ہوگا۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر توانائی کے راستوں میں رکاوٹ برقرار رہی تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو طویل المدتی معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے اس جنگ کو اب صرف عسکری نہیں بلکہ “اقتصادی جنگ” بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

فی الحال کوئی واضح سفارتی حل سامنے نہیں آیا، اور یہی صورتحال اس خدشے کو بڑھا رہی ہے کہ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور عالمی نظام پر اس کے اثرات دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button