امریکاتازہ ترین

امریکہ کی متحدہ عرب امارات کو 7 ارب ڈالر کے مزید ہتھیاروں کی منظوری، خفیہ ڈیلز کا انکشاف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ڈیلز عام اعلان کے بغیر منظور کی گئیں، جس نے پالیسی شفافیت پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس پیکج میں جدید پیٹریاٹ PAC-3 میزائل سسٹمز شامل ہیں جن کی مالیت تقریباً 5.6 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جبکہ CH-47 چنوک ہیلی کاپٹرز کی خریداری بھی اس معاہدے کا حصہ ہے، جس کی لاگت تقریباً 1.3 ارب ڈالر ہے۔ یہ ہیلی کاپٹرز فوجی نقل و حمل اور لاجسٹکس کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ ڈیلز دراصل پہلے سے طے شدہ معاہدوں کی توسیع ہیں، اسی لیے انہیں باقاعدہ طور پر عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خفیہ فیصلے خطے میں طاقت کے توازن اور اسلحے کی دوڑ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کو 16.5 ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل سسٹمز خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ چنوک ہیلی کاپٹرز میدانِ جنگ میں تیز رفتار نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں۔ اس طرح کے جدید ہتھیار خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلحے کی بڑھتی ہوئی فراہمی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ شفافیت کے بغیر ہونے والے معاہدے جمہوری نگرانی کے اصولوں کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکہ کی یہ حکمت عملی نہ صرف اپنے اتحادیوں کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں اسلحے کی دوڑ تیز ہونے اور طویل المدتی عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اب صرف عسکری نہیں بلکہ دفاعی اتحادوں اور اسلحہ پالیسیوں کے ذریعے بھی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button