
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان خلیجی ممالک ایک نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں، جہاں وہ سفارتکاری کو برقرار رکھتے ہوئے دفاعی اقدامات کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں صرف مذاکرات کافی نہیں رہے۔
رپورٹس کے مطابق ماضی میں خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کے لیے سفارتی راستے اور مکالمے پر انحصار کرتی رہی ہیں، تاہم حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ حملے براہِ راست توانائی تنصیبات، گیس فیلڈز اور شہری علاقوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی اہم تنصیبات، خصوصاً خارگ آئل ٹرمینل، پر حملوں کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک کے اہم اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے تنازع کو ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل دے دی ہے۔
خاص طور پر توانائی کا شعبہ اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد قطر کے راس لفان صنعتی شہر کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب جنگ صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خلیجی ممالک کے علاوہ مصر، اردن، ترکیہ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاستوں کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا گیا، تاہم ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے بھی اشارہ دیا کہ اگر حملے جاری رہے تو خلیجی ممالک زیادہ سخت اقدامات پر غور کر سکتے ہیں، جس میں ممکنہ فوجی ردعمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترجیح اب بھی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک اب ایک "دوہری حکمت عملی” اختیار کر رہے ہیں، جس میں ایک طرف ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دفاعی صلاحیت اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی اور دفاعی دونوں محاذوں پر سرگرم ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران نے خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کو بھی بڑھایا ہے، جہاں ماضی کے اختلافات کے باوجود اب مشترکہ دفاعی اقدامات اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ابھی بھی مکمل مشترکہ دفاعی نظام کے قیام میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔
سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک اب نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ اس بحران کو محدود رکھا جا سکے۔ تاہم زمینی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: ایک طرف وہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اپنی سکیورٹی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ بحران اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سفارتکاری اور طاقت دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے، جبکہ کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔



