روس–یوکرین جنگ: 1,444ویں دن کی اہم پیش رفت — محاذ پر شدید لڑائی، ماسکو میں روسی جنرل پر حملہ

کییف/ماسکو — روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے 1,444ویں دن بھی محاذِ جنگ پر شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ یوکرین کے کمانڈر اِن چیف اولیکساندر سیرسکی کے مطابق سخت سرد موسم کے باوجود لڑائی میں کمی نہیں آئی، جبکہ مشرقی اور جنوبی یوکرین میں فرنٹ لائن کی لمبائی تقریباً 1,200 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے۔
یوکرینی فوج کے مطابق جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باعث محاذ پر خطرناک ’’کِل زون‘‘ کی گہرائی اب 20 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ جمعہ کی رات روس نے یوکرین پر 328 ڈرون اور 7 میزائل داغے، جن میں سے فضائی دفاع نے 297 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم مختلف حملوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ رہائشی عمارتوں اور توانائی کے نظام کو نقصان پہنچا۔

جنوبی زاپوریزیا میں روسی فضائی حملے سے 18 اپارٹمنٹ بلاکس متاثر ہوئے اور آٹھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک ڈاگ شیلٹر پر حملے میں 13 کتے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری طرف روس کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر میں 38 یوکرینی ڈرون مار گرائے، جن میں سے زیادہ تر بریانسک کے علاقے میں تھے۔ بیلگورود میں یوکرینی حملے سے بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا اور شہر کے کچھ حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی۔
ادھر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی نے بعض علاقوں میں فضائی دفاع کی کارکردگی کو ’’غیر تسلی بخش‘‘ قرار دیتے ہوئے دفاعی نظام کو فوری مضبوط بنانے اور بجلی و حرارتی نظام کی مرمت تیز کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق حالیہ روسی حملوں کے بعد 1,110 سے زائد عمارتیں تاحال بغیر حرارت کے ہیں۔

ماسکو میں روسی جنرل پر حملہ
ایک بڑی پیش رفت میں ماسکو میں روسی فوجی انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو ان کی رہائش گاہ کے قریب گولی مار دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق انہیں تین گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بغیر ثبوت کے یوکرین پر الزام لگایا کہ یہ حملہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا گیا، جبکہ کییف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
فوجی امداد اور مذاکرات
کینیڈا نے یوکرین کو فضائی دفاع مضبوط کرنے کے لیے AIM میزائلوں کی فراہمی شروع کر دی ہے، جبکہ امریکا نے یوکرین کو 185 ملین ڈالر مالیت کے فوجی اسپیئر پارٹس کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی ہے۔ ادھر کریملن کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تیسرا مذاکراتی دور جلد متوقع ہے، تاہم جنگ بندی پر اب تک کوئی بریک تھرو نہیں ہو سکا۔

پابندیاں، سفارتکاری اور توانائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل کی خرید پر بھارت کے خلاف لگایا گیا اضافی ٹیرف واپس لینے کا اعلان کیا، جبکہ یورپی کمیشن نے روس کی سمندری تیل برآمدات کو سہارا دینے والی خدمات پر سخت پابندیوں کی تجویز دی ہے۔ توانائی کے محاذ پر یوکرین نے امریکی ایل این جی درآمدات پر بات چیت کو اہم قرار دیا ہے تاکہ شدید سردی اور حملوں سے متاثرہ توانائی بحران سے نمٹا جا سکے۔
مجموعی طور پر، محاذِ جنگ کی شدت، ماسکو میں ہائی پروفائل حملہ اور جاری سفارتی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ جنگ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں معمولی واقعہ بھی حالات کو بڑے رخ پر لے جا سکتا ہے۔



