
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملے بدستور جاری ہیں، اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پیش رفت کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں میں عارضی وقفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی افواج ایران کے اندر غیر توانائی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں اور جدید ہتھیاروں کے ذریعے کارروائیاں “جارحانہ انداز” میں جاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں ایک ہدف کو تباہ ہوتے دکھایا گیا، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ٹرمپ کا اعلان اور مذاکرات کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ “مثبت اور نتیجہ خیز” بات چیت کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پاور پلانٹس، پر حملے پانچ دن کے لیے روک دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کے نمائندے، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، نے ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے متعلقہ ایرانی شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا۔
ایران کی سخت تردید
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ “جھوٹی خبریں” پھیلا کر عالمی مالیاتی اور تیل کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے بیانات دراصل توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور مزید فوجی منصوبہ بندی کے لیے وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہیں۔

عالمی منڈیوں پر اثرات
ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا اور ڈاؤ جونز انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔ ماہرین کے مطابق ممکنہ سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو وقتی طور پر بحال کیا ہے۔
پس منظر: بڑھتی کشیدگی اور فوجی مہم
امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں 28 فروری سے شروع کی تھیں، جنہیں “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کانگریس سے تقریباً 200 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری بھی طلب کر رہے ہیں تاکہ فوجی ذخائر کو دوبارہ بھر سکیں۔
سفارتی کوششیں اور علاقائی کردار
رپورٹس کے مطابق ایران اور ترکی کے درمیان حالیہ رابطے بھی سامنے آئے ہیں، اور ماضی میں ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں تو آئندہ چند دن انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔

صورتحال کا ممکنہ رخ
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال دو ممکنہ سمتوں میں جا سکتی ہے:
- اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے
- بصورت دیگر، محدود حملے مکمل جنگی صورتحال میں تبدیل ہو سکتے ہیں
ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر سکتا ہے۔
اہم نکات:
- امریکہ کے ایران پر حملے جاری، توانائی اہداف پر عارضی وقفہ
- ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات جاری
- ایران کی تردید: کوئی بات چیت نہیں ہوئی
- امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، ڈاؤ جونز میں بڑا اضافہ
- کشیدگی برقرار، آئندہ دن فیصلہ کن قرار



