
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
دوحہ/لندن: ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں آنے والا حالیہ اضافہ وقتی نہیں بلکہ اس کے اثرات طویل عرصے تک عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو 2008 کے بعد بلند ترین سطحوں کے قریب ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ ہے۔
یہ بحران مختلف کیوں ہے؟
ماہرین کے مطابق 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے دوران بھی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، لیکن اس وقت سپلائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے مختلف راستوں سے منتقل کر لیا گیا تھا۔
موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے کیونکہ ایران جنگ کے باعث تیل اور گیس کی حقیقی سپلائی متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے کی بندش نے عالمی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
سپلائی میں بڑی کمی
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے اندازوں کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل، جو پہلے تقریباً 2 کروڑ بیرل یومیہ تھی، اب انتہائی کم سطح پر آ گئی ہے۔
اسی طرح خلیجی ممالک کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے، جبکہ بعض تیل اور گیس تنصیبات پر حملوں کے باعث پیداوار جزوی طور پر بند ہو چکی ہے۔

متبادل راستے کیوں ناکام؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کو دوسرے راستوں سے منتقل کرنے کی کوششیں بھی محدود ہیں۔ سعودی عرب اور عراق کے متبادل پائپ لائن راستے صرف 3.5 سے 5.5 ملین بیرل یومیہ اضافی گنجائش رکھتے ہیں، جو موجودہ کمی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اسی طرح عالمی گیس مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد LNG سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جو اب متاثر ہو چکی ہے۔
ذخائر کا استعمال بھی حل نہیں
اگرچہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر جاری کیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف وقتی ریلیف دے سکتا ہے۔ اصل مسئلہ سپلائی کی کمی ہے، جسے صرف ذخائر سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔
مزید یہ کہ ذخائر کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں وقت، جہازوں کی کمی اور سیکیورٹی خدشات بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو:
- مہنگائی میں اضافہ ہوگا
- عالمی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے
- کساد بازاری (Recession) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
بعض اندازوں کے مطابق اگر قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہیں تو عالمی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی منڈی میں استحکام ممکن ہے، لیکن اس کے لیے وقت درکار ہوگا اور اس دوران معاشی قیمت کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم عنصر خطے کی سیکیورٹی صورتحال ہے—اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو توانائی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔



