اسرائیلتازہ ترین

اسرائیلی وزیر کا جنوبی لبنان کے الحاق کا مطالبہ، حملوں میں شدت، ہزاروں افراد متاثر

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

یروشلم/بیروت: اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی تجویز دے کر خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں فضائی اور زمینی حملے تیز کر دیے ہیں۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ملک کی نئی سرحد دریائے لیتانی (Litani River) تک ہونی چاہیے، جو لبنان کے اندر ایک اہم جغرافیائی حد سمجھی جاتی ہے۔ یہ بیان کسی بھی سینئر اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے لبنان کی سرزمین پر قبضے کی سب سے واضح تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

جنگ کا دائرہ وسیع

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے اثرات لبنان تک پھیل چکے ہیں۔ لبنان میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ (Hezbollah) نے 2 مارچ کو اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے، جس کے بعد دونوں اطراف کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم لبنان کے حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 1000 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

بیروت میں دھماکے اور حملے

عینی شاہدین کے مطابق بیروت کے نواحی علاقے ضاحیہ میں پیر کی رات کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل ایک اور حملے میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایلیٹ قدس فورس کے ایک کمانڈر کے مارے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

شہریوں کی نقل مکانی

اسرائیل نے دریائے لیتانی کے جنوب میں رہنے والے تمام شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لبنان میں انسانی بحران سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

عالمی ردعمل اور خدشات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی جنوبی لبنان کے کسی حصے کو ضم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے اور اس سے خطے میں بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

عالمی طاقتیں اس وقت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ موجود ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button