ایرانتازہ ترین

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات: شرائط، ثالثی اور مستقبل کیا ہوگا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک اہم موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ حالیہ پیش رفت کو ماہرین ایک ممکنہ “اسٹریٹیجک ایگزٹ” قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت دونوں فریق بیک وقت جنگ اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی سخت ڈیڈ لائن اور پھر اچانک 5 دن کی مہلت میں توسیع کو ماہرین ایک حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنا اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافے نے امریکی حکومت پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ کسی نہ کسی حل کی طرف بڑھا جائے۔

ذرائع کے مطابق جنگ کے دوران بھی سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے بلکہ خفیہ سطح پر جاری رہے۔ امریکی نمائندوں، جن میں ٹرمپ کے قریبی مشیر اور خصوصی ایلچی شامل ہیں، نے ایرانی حکام سے ابتدائی نوعیت کی ٹیلیفونک بات چیت کی ہے، جسے کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ایران نے واضح کیا کہ وہ کسی عارضی جنگ بندی پر تیار نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل معاہدہ چاہتا ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت دیں اور ساتھ ہی اقتصادی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، اور 5 روزہ وقفہ صرف توانائی تنصیبات تک محدود ہے، جبکہ دیگر فوجی اہداف بدستور نشانے پر رہیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ “دباؤ کے ساتھ مذاکرات” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

اس دوران مصر، ترکی، پاکستان، عمان، قطر، فرانس اور برطانیہ سمیت کئی ممالک ثالثی کے کردار میں سامنے آئے ہیں، جو دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذاکرات کا سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ امریکہ اس اہم راستے کو کھلوانا چاہتا ہے اور اس پر بین الاقوامی کنٹرول کی بات کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کسی عارضی حل کو مسترد کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے یہاں تک تجویز دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں سے فیس وصول کی جائے، جیسا کہ مصر نہر سویز میں کرتا ہے، تاہم اس تجویز کو امریکہ اور خلیجی ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام بند کرے، خطے میں اپنے اتحادی گروپوں کی حمایت ختم کرے اور بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کھول دے۔ اس کے برعکس ایران کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی معاہدہ مستقل ہونا چاہیے اور اس میں اسے ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف جنگی کارروائیاں بھی رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں استحکام آ سکتا ہے، لیکن ناکامی کی صورت میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے، کیونکہ یہی طے کریں گے کہ یہ بحران سفارتکاری کے ذریعے حل ہوتا ہے یا ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button