
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں فوجی، سفارتی اور معاشی محاذ بیک وقت متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے حوالے سے نئی شرائط سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر بھاری فیس وصول کیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی صورتحال دباؤ کا شکار ہے، جہاں تل ابیب کے میئر نے وزیر اعظم سے سوال اٹھاتے ہوئے حالیہ حملوں کے تناظر میں حکومتی مؤقف پر تنقید کی ہے۔ اسرائیلی شہروں پر جاری میزائل حملوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
خلیجی پانیوں میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہونے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں، جہاں کم از کم 20 جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں برطانوی میڈیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں، جو عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ممکنہ طور پر ایران میں مزید فوجی کارروائیوں پر غور کر رہا ہے، تاہم بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں میں اس جنگ میں براہِ راست شرکت کے حوالے سے ہچکچاہٹ پائی جا رہی ہے، جس سے پالیسی سازوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایران کے اندرونی سیاسی منظرنامے میں بھی ہلچل کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے اعلیٰ قیادت کے خلاف دباؤ اور اختلافات کی بات کی جا رہی ہے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
اسی دوران لبنان سے اسرائیل پر میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے اندر بھی سیاسی سطح پر بحث جاری ہے، جہاں ایک سینیٹر نے صدر ٹرمپ پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تحقیق یا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب چین کی سرگرمیاں بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جہاں اطلاعات ہیں کہ چینی جہاز ایرانی پانیوں سے گزر رہے ہیں، اور ماہرین کا خیال ہے کہ چین اس صورتحال سے معاشی اور اسٹریٹیجک فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔



