تازہ ترینمشرق وسطی

آبنائے ہرمز سکیورٹی پر عالمی تقسیم، بحرین کا سخت مؤقف، فرانس کا سفارتی حل سامنے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے، جہاں بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک سخت قرارداد پیش کر دی ہے، جبکہ فرانس نے اس کے مقابلے میں ایک زیادہ سفارتی اور محتاط تجویز سامنے رکھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے “تمام ضروری اقدامات” کی اجازت دینے کی بات کی گئی ہے، جسے ماہرین عملی طور پر فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس تجویز کا مقصد عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔

بحرین کے مسودے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور عالمی سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔ اس کے ساتھ ممکنہ پابندیوں کی تجاویز بھی شامل ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

دوسری جانب فرانس نے ایک متبادل قرارداد پیش کی ہے، جس میں طاقت کے استعمال کی کوئی واضح اجازت شامل نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا مؤقف ہے کہ مسئلے کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سفارتکاری اور بین الاقوامی تعاون میں ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی اور جہازوں پر حملوں کی خبروں نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان دونوں متضاد تجاویز نے عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ جہاں کچھ ممالک بحرین کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں روس اور چین جیسے مستقل ارکان کی ممکنہ مخالفت کے باعث کسی بھی قرارداد کی منظوری مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

ادھر امریکہ نے بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں بحری جہاز اور فوجی دستے شامل ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں براہ راست زمینی کارروائی کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کا ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے دور رس اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button