یوکرین پر روس کے بڑے حملے، متعدد شہروں میں تباہی، کم از کم 5 افراد جاں بحق

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یوکرین کے مختلف علاقوں پر روس کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے کے فضائی حملوں نے ایک بار پھر جنگ کی شدت کو بڑھا دیا ہے، جہاں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق حملے یوکرین کے کئی شہروں میں بیک وقت کیے گئے، جن میں خارکیف، زاپوریژیا، خیرسون اور پولٹاوا شامل ہیں۔ خارکیف میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق اس حملے میں درجنوں میزائل اور سینکڑوں ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل بھی شامل تھے۔ دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا، تاہم کچھ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جس سے شہری علاقوں میں نقصان ہوا۔
جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ مقامی افراد کے مطابق شدید دھماکوں کے باعث عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی خاندانوں کو ہنگامی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
پولٹاوا میں بھی رہائشی عمارتوں اور ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح خیرسون میں ایک شہری اپنے گھر پر گولہ باری کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

حملوں کا ایک اہم پہلو توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی رہا، جس کے نتیجے میں خطے کی بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی۔ پڑوسی ملک مالدووا نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اس کی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور صورتحال “انتہائی نازک” ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے بعد عالمی برادری سے مزید دفاعی امداد کی اپیل کی ہے، اور کہا ہے کہ ایسے حملے ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کو مزید فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے اس نوعیت کے بڑے حملے حالیہ مہینوں میں وقفے وقفے سے کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور دباؤ بڑھانا ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازع نے عالمی توجہ کو تقسیم کر دیا ہے، جس کا اثر یوکرین جنگ پر بھی پڑ رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جبکہ امن مذاکرات بھی مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔



