
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں بدھ کے روز اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں تہران کے مختلف اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران ایک رہائشی علاقے کو بھی نقصان پہنچا، جہاں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اہم شہروں، بشمول تل ابیب اور شمالی شہر کیریات شمونہ، پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں کا دائرہ کار صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی نشانہ بنائے گئے۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کویت اور سعودی عرب نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ڈرون حملوں کو ناکام بنایا۔ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک فیول ٹینک کو نشانہ بنایا گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی دوران امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک 15 نکاتی منصوبہ تہران کو بھیجا گیا ہے جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ تاہم ایران نے ان مذاکراتی دعوؤں کو “جھوٹی خبریں” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست اور وسیع حملے کر رہے ہیں۔ اس کشیدگی نے نہ صرف ہزاروں جانیں لی ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو بھی شدید کر دیا ہے، جس کے باعث تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح بگڑتی رہی تو یہ تنازع ایک بڑے علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت اور امن پر مرتب ہوں گے۔



