ایرانتازہ ترین

ایران کی غیر متوقع پیشکش، ٹرمپ نے جنگ بندی کی امید ظاہر کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو توانائی کے شعبے میں ایک “اہم اور قیمتی تحفہ” دیا ہے، جو ان کے بقول جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پس پردہ جنگ بندی مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے دیا گیا یہ اقدام جوہری پروگرام سے متعلق نہیں بلکہ تیل اور گیس کے معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ “غیر مخالف” ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں اور کسی قسم کی دشمنانہ سرگرمی میں شامل نہ ہوں۔ اس پیش رفت کو عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس اہم راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے اور ایرانی فریق کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابھی کسی حتمی نتیجے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جسے بعض تجزیہ کار سفارتی کوششوں کو موقع دینے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ایران نے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔

دوسری جانب برطانوی اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو ایک باضابطہ پیغام بھیجا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف وہی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں جو ایران کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہ ہوں۔ اس میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایک پیچیدہ توازن کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ایک طرف فوجی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب محدود سفارتی راستے بھی کھلے رکھے جا رہے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث توانائی بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ “تحفہ” اور ممکنہ نرمی ایک مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں کے باعث کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ ایسے میں آنے والے دن اس تنازع کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button