
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکا-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں ایرانی "میزائل سٹیز” یا زیرِ زمین میزائل شہر عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے بعد ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹیجک مقامات پر شدید حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں خاص طور پر ان خفیہ میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر واضح کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کے پاس ایران کی عسکری صلاحیت کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا ایک جامع منصوبہ موجود ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی ہدف ایران کے میزائل پروگرام، لانچنگ پلیٹ فارمز اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں ان میزائل شہروں کی جھلک دکھائی گئی ہے، جن میں وسیع سرنگوں کا جال، میزائل منتقل کرنے کے لیے ریلوے نظام، موبائل لانچرز اور بڑے ٹرکوں کے لیے مخصوص راستے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان تنصیبات کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض ایرانی ذرائع انہیں 500 میٹر تک زیر زمین قرار دیتے ہیں، جو انہیں بیرونی حملوں سے محفوظ بنانے کی ایک بڑی کوشش سمجھی جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے ایران کے مختلف علاقوں میں مرکوز رہے ہیں، جن میں شمال مغربی شہر تبریز، دارالحکومت تہران کے اطراف، اور وسطی ایران کے اہم صنعتی مراکز شامل ہیں۔ یزد، خرم آباد، اصفہان اور خرم شہر جیسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں نہ صرف میزائل سازی کی فیکٹریاں موجود ہیں بلکہ ایران کے حساس جوہری پروگرام سے جڑے اہم عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔

جنوبی ایران کے شہر شیراز، بندر عباس اور کرمان بھی ان حملوں کی زد میں آئے، جہاں زیر زمین میزائل بیسز کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اصفہان اور کرمانشاہ کے قریب واقع تنصیبات پر حملوں کے آثار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ان داخلی راستوں پر جہاں سے موبائل میزائل لانچرز کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے یہ میزائل شہر اس کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہیں، جو نہ صرف جوابی حملوں کی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ دشمن کے لیے اہداف کی نشاندہی کو بھی مشکل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان تنصیبات کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین فوجی ڈھانچے جدید جنگوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی مدد سے دشمن کے خفیہ اثاثوں کو تلاش اور تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم ایران جیسے ممالک کے لیے یہ تنصیبات ایک اسٹریٹیجک "ڈیٹرنس” کا کام بھی دیتی ہیں، جو ممکنہ حملہ آور کو محتاط رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو مشرق وسطیٰ ایک وسیع تر تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



