تازہ ترینرشیا یوکرین

یوکرینی ڈرون حملہ، روس کی اہم بندرگاہ اُست-لوگا میں دھماکہ، توانائی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرونز نے بالٹک سمندر کے قریب واقع اس کی اہم بندرگاہ اُست-لوگا کو نشانہ بنایا ہے، جو یوکرین کی سرحد سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور ہے۔ اس حملے کے بعد نوواٹیک کے گیس کنڈینسیٹ پروسیسنگ کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے توانائی کے شعبے میں ایک نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

روسی حکام کے مطابق یہ بندرگاہ ملک کی توانائی برآمدات کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل اور ڈیڑھ لاکھ بیرل گیس کنڈینسیٹ عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے اتنی دور تک حملہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ اب روایتی محاذوں سے نکل کر گہرائی میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے حملے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اس بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو عالمی تیل و گیس سپلائی چین پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی عالمی توانائی مارکیٹ عدم استحکام کا شکار ہے۔

دوسری جانب یوکرین کی جانب سے اس حملے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ماضی میں کیف حکومت روسی توانائی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا عندیہ دے چکی ہے۔

موجودہ صورتحال میں یہ واقعہ روس-یوکرین جنگ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی اہم اقتصادی اور اسٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنا کر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسے حملے جاری رہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button