ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی توانائی سپلائی خطرے میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جہاں مغربی طاقتیں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ماضی میں بحیرہ احمر میں کی گئی اسی نوعیت کی کوششیں ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے خلاف کئی سال تک جاری رہنے والی کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، جدید ہتھیار استعمال کیے گئے اور عسکری اتحاد تشکیل دیے گئے، لیکن اس کے باوجود نہ صرف متعدد جہازوں کو نقصان پہنچا بلکہ عالمی شپنگ کمپنیوں نے اس راستے سے گریز کرنا شروع کر دیا۔ اس تجربے کو اب آبنائے ہرمز کے موجودہ بحران کے تناظر میں ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے اس اہم راستے کو محدود یا بند کرنے کے اقدامات نے عالمی مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں حوثیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور منظم ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا سکیورٹی آپریشن کو زیادہ پیچیدہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اتحادیوں کو اس بار نہ صرف زیادہ وسائل بلکہ زیادہ محتاط حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں دھمکیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ گزرگاہ طویل عرصے تک بند رہی تو توانائی کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شپنگ انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال نے بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، اور بہت سی کمپنیوں نے متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کی عالمی سپلائی اب پہلے سے کہیں زیادہ جغرافیائی سیاست کے زیر اثر آ چکی ہے، جہاں ہر پیش رفت کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button