
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عراق میں جاری سیکیورٹی صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ جنگی حکمت عملی اب صرف مخصوص مقامات تک محدود نہیں رہی بلکہ اہم سپلائی روٹس اور لاجسٹک کوریڈورز کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی خطے میں جاری وسیع تر تنازع کا حصہ ہے، جس میں جغرافیہ ایک کلیدی عنصر بن چکا ہے۔
حالیہ حملوں میں بغداد کے مغرب میں واقع حبانیہ بیس پر ایک فوجی کلینک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب اہداف کا انتخاب زیادہ اسٹریٹیجک بنیادوں پر کیا جا رہا ہے، جہاں سپلائی اور کمانڈ نیٹ ورک کو کمزور کرنا مرکزی مقصد ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کا دائرہ بابِل کے جرف الصخر، صلاح الدین، تکریت اور موصل تک پھیل چکا ہے، جبکہ اربیل ایئرپورٹ پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں امریکی افواج کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق اب صرف داخلی میدان نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی تصادم کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
بغداد میں بھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف اور دیگر علاقوں میں لاجسٹک سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حملہ آور گروپس یا قوتیں سپلائی چین کو توڑنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق عراق میں موجود مسلح گروہوں کے پاس مؤثر فضائی دفاعی نظام کی کمی کے باعث غیر ملکی جنگی طیاروں کو نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت حاصل ہے، جس کی وجہ سے کم بلندی پر پروازیں اور ہدفی حملے آسان ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال حالیہ حملوں کے انداز میں بھی واضح نظر آتی ہے۔

اسی دوران عراقی حکومت صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور ملک کو مکمل جنگی تصادم سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمت عملی دراصل "وار آف ایٹریشن” یعنی طویل اور محدود شدت والی جنگ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مسلسل مگر کنٹرولڈ حملوں کے ذریعے مخالف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بغیر اس کے کہ مکمل جنگ شروع ہو۔
اہم بات یہ ہے کہ حملوں کا رخ ایک ایسے زمینی کوریڈور کی طرف ہے جو دیالہ سے بغداد، جرف الصخر اور پھر عراقی-شامی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ راستہ مختلف مسلح گروہوں کے درمیان رابطے اور سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا روٹ حبانیہ، رمادی اور البوکمال تک جاتا ہے، جو اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ موجودہ اہداف کا تعین سپلائی لائنز کو کاٹنے کے اصول پر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عراق اب اس وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا مرکزی میدان بنتا جا رہا ہے، جہاں جغرافیہ، سپلائی لائنز اور عسکری موجودگی مل کر جنگ کے رخ کا تعین کر رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عراق میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



