
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی پر عوامی رائے تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں ایک نئے سروے کے مطابق اکثریت اس جنگی مہم کو ضرورت سے زیادہ قرار دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں نے بھی عوامی تشویش میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً 59 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی حد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بڑی تعداد اس بات پر بھی فکر مند ہے کہ آنے والے مہینوں میں ایندھن کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ تقریباً 45 فیصد افراد نے پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے شدید یا بہت زیادہ تشویش کا اظہار کیا، جو حالیہ مہینوں میں نمایاں اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی حکومت کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے، کیونکہ ایک طرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا عوام کی بڑی ترجیح ہے، جبکہ دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ تیل اور گیس کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم اس حوالے سے تشویش کی سطح مختلف ہے، جہاں ڈیموکریٹس زیادہ فکرمند دکھائی دیتے ہیں جبکہ ریپبلکنز نسبتاً کم پریشان ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات، جیسے زمینی افواج کی تعیناتی، کی مخالفت بھی بڑھ رہی ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد امریکی ایسے اقدامات کے خلاف ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام بڑی جنگ سے گریز چاہتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت اس دوران نسبتاً مستحکم رہی ہے، تاہم خارجہ پالیسی اور فوجی فیصلوں پر عوامی اعتماد محدود نظر آتا ہے۔ تقریباً نصف امریکیوں نے کہا کہ انہیں بیرون ملک فوجی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلوں پر کم یا کوئی اعتماد نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے اور ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو یہ صورتحال امریکی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی تقسیم پہلے ہی واضح ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی اور معاشی دباؤ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایران جنگ کا اثر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ امریکی عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔



