ایرانتازہ ترین

ایران تنازع میں چین کا محتاط رویہ، امریکا کو مشکلات کا سامنا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے خلاف امریکا کی جاری جنگ کے دوران جہاں عالمی رہنما کھل کر مؤقف اختیار کر رہے ہیں، وہیں چین کے صدر شی جن پنگ کی خاموشی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ اس تنازع کو قریب سے دیکھ رہا ہے، لیکن بظاہر کسی واضح موقف سے گریز کرتے ہوئے ایک محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال قلیل مدت میں چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ ایک جانب امریکا جنگی دباؤ اور توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری جانب چین اپنی معیشت کو متبادل توانائی ذرائع، خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے مستحکم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین میں نئی گاڑیوں کی فروخت کا بڑا حصہ اب الیکٹرک وہیکلز پر مشتمل ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر نسبتاً کم پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے پاس کوئلے جیسے روایتی توانائی ذرائع بھی موجود ہیں، جو ہنگامی حالات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے روسی اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور جنگی اخراجات میں اضافہ، چین کے اس مؤقف کو تقویت دے رہے ہیں کہ واشنگٹن کی پالیسیاں عالمی سطح پر عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں امریکا کے اتحادی بھی مکمل طور پر اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آ رہے۔

تاہم طویل مدت میں چین کے لیے چیلنجز بھی کم نہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں چین کی صنعتی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں اس کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بیجنگ نہیں چاہتا کہ خطے میں عدم استحکام اس کے تجارتی مفادات کو متاثر کرے۔

اسی تناظر میں چین نے سفارتی سطح پر بھی سرگرمی دکھائی ہے اور ایران کو امن مذاکرات کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ممکنہ امریکا-ایران مذاکرات کے حوالے سے بھی چینی سفارتکار متحرک ہیں۔

عالمی سطح پر اس جنگ کے اثرات دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فلپائن نے توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، جاپان نے اپنے تیل کے ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا نے ہنگامی اقتصادی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین اس وقت "انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں وہ براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اگر جنگ طویل ہو گئی تو یہی صورتحال چین کے لیے مشکلات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کو بھی متاثر کر رہی ہے، جہاں چین اپنی خاموش حکمت عملی کے ذریعے مستقبل کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button