
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ کے جدید میزائل دفاعی نظام THAAD (ٹرمنل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس) کے ذخائر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اور نئی رپورٹ کے مطابق ان کی مکمل بحالی میں تین سے آٹھ سال تک لگ سکتے ہیں۔
امریکی کانگریس سے وابستہ ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشنز میں THAAD انٹرسیپٹر میزائلوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں دستیاب ذخیرہ نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس جنگ میں THAAD میزائلوں کے کل ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ ان کی سالانہ پیداوار 100 سے بھی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک مرحلے میں اسرائیل کے دفاع کے لیے 92 THAAD انٹرسیپٹر استعمال کیے گئے، جبکہ مجموعی دستیاب تعداد تقریباً 632 بتائی جاتی ہے۔ ہر میزائل کی قیمت تقریباً 12.7 ملین ڈالر ہے، جس سے نہ صرف عسکری بلکہ مالی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی دفاعی نظام پیٹریاٹ نے بھی خلیجی ممالک کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی چار دنوں میں ہی 943 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر فائر کیے گئے، جو تقریباً ڈیڑھ سال کی مجموعی پیداوار کے برابر ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار جاری رہی تو امریکہ کو مستقبل میں دیگر ممکنہ محاذوں، خاص طور پر چین جیسے بڑے حریف کے خلاف تیاری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس بموں اور حملہ آور ہتھیاروں کی کمی نہیں، لیکن اصل مسئلہ دفاعی نظام، خاص طور پر انٹرسیپٹر میزائلز کی محدود تعداد ہے، جو فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اندازوں کے مطابق اب تک ایران تقریباً 380 میزائل اسرائیل کی طرف فائر کر چکا ہے، جبکہ اس کے پاس اب بھی 1000 سے زائد ایسے میزائل موجود ہیں جو اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے کئی لانچرز تباہ کر دیے ہیں، لیکن مکمل خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔

دفاعی حکمت عملی کے تحت اسرائیل اور امریکہ ایک مشترکہ کمانڈ سسٹم کے ذریعے مختلف دفاعی نظام استعمال کرتے ہیں۔ عام طور پر سب سے پہلے Arrow-3 کے ذریعے خلا میں ہی میزائل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے بعد Arrow-2 اور پھر ضرورت پڑنے پر David’s Sling یا THAAD استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے ایک اہم حقیقت کو واضح کر دیا ہے: جدید جنگوں میں صرف حملہ آور طاقت ہی نہیں بلکہ دفاعی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اگر انٹرسیپٹر میزائلز کی کمی جاری رہی تو یہ نہ صرف موجودہ آپریشنز بلکہ مستقبل کی جنگی تیاریوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کی مجموعی دفاعی پیداوار ایران سے کہیں زیادہ ہے، تاہم موجودہ حالات نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ کیا طویل المدتی جنگی صورتحال کے لیے مغربی اتحادی واقعی مکمل طور پر تیار ہیں یا نہیں۔



