
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایشیا کے بڑے ممالک کو تیل کی سپلائی کم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی جانب سے چین اور بھارت کو آئندہ ماہ معمول سے کم تیل فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ دونوں ممالک ایشیا میں سعودی تیل کے سب سے بڑے خریدار شمار ہوتے ہیں، اور سپلائی میں کمی عالمی منڈی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو اپریل میں چین کو تقریباً 40 ملین بیرل خام تیل فراہم کرے گی، جو معمول سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اس سے قبل فروری میں یہی مقدار تقریباً 48 ملین بیرل تھی۔ اسی طرح بھارت کو بھی سپلائی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے تیل کی ترسیل کے نظام کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو نہ صرف ایشیائی معیشتیں متاثر ہوں گی بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو تیل کی درآمد پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کار بھی محتاط ہو گئے ہیں، کیونکہ جنگ کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں اور جغرافیائی سیاسی خطرات عالمی معیشت کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں، جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں تک پہنچیں گے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب کا یہ فیصلہ وقتی ہو سکتا ہے، تاہم یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب عالمی توانائی نظام کو براہ راست متاثر کر رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔



