
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی "آپریشن ایپک فیوری” کے دوران اب تک 10 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جسے جنگ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں 10 ہزارواں ہدف بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے، جو دونوں اتحادیوں کی مشترکہ طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی بحریہ کے بڑے جہازوں کا تقریباً 92 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے، جس کے بعد ایران کی سمندری طاقت اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
اسی طرح میزائل اور ڈرون پروگرام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ امریکی اندازوں کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے، جبکہ اس کی فوجی پیداوار کا دو تہائی حصہ تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

امریکی فضائیہ نے بھی اس آپریشن کے دوران 10 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کی ہیں، جس سے ایران کی فضائی حدود پر امریکہ کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سطح کی مسلسل فضائی کارروائیاں کسی بھی ملک کی دفاعی صلاحیت کو طویل عرصے تک متاثر کر سکتی ہیں۔
تاہم تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوتی ہے، اور زمینی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو نقصان پہنچا ہے، لیکن مکمل طور پر اس کی فوجی صلاحیت ختم ہونا ابھی ممکن نہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی وسیع پیمانے پر کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کی منڈی اور سلامتی کے حوالے سے۔
مجموعی طور پر یہ دعوے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے، اور دونوں جانب سے طاقت کے استعمال نے صورتحال کو ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں سفارتی حل مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔



