
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے خلیج فارس میں واقع اپنے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر فوجی طور پر مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور جدید فضائی دفاعی نظام نصب کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں جبکہ کندھے سے فائر ہونے والے میزائل سسٹمز (MANPADS) بھی تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ امریکی لینڈنگ کو روکا جا سکے۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا کسی بھی ممکنہ فوجی حکمت عملی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس جزیرے پر زمینی کارروائی کی جائے یا نہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی کارروائی میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایران نے جزیرے کو کئی تہوں پر مشتمل دفاعی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک خارگ جزیرے پر 90 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں میزائل اسٹوریج، بارودی سرنگوں کے ذخائر اور دیگر دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تاکہ عالمی توانائی بحران مزید نہ بڑھے۔
اسرائیلی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکہ نے جزیرے پر حملہ کیا تو ایران ڈرونز اور مختصر فاصلے کے میزائلوں کے ذریعے شدید جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس سے امریکی افواج کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ایرانی جزائر پر قبضے کی کوشش کی تو خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی فوجی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق خارگ جزیرے کا حجم نسبتاً چھوٹا ہونے کے باوجود اسے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ایران نے اسے ایک مضبوط دفاعی قلعے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک بھی اس ممکنہ کارروائی سے پریشان ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس ایک متبادل راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ براہ راست حملے کے بجائے خارگ جزیرے کا سمندری محاصرہ کر دے، جس سے ایران کی تیل برآمدات متاثر ہوں گی لیکن زمینی جنگ کے خطرات کم رہیں گے۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، جہاں ایک غلط قدم پورے خطے کو وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی بھی اس کشیدگی سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔



