
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو ایران روایتی جنگ کے بجائے گوریلا طرز کے “ہٹ اینڈ رن” حملے شروع کر سکتا ہے، جس سے امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
امریکی فوج کے معروف تجزیہ کار مائیکل آئزن سٹیڈ کے مطابق ایران کے پاس بڑی تعداد میں ایسے زمینی دستے موجود ہیں جو چھوٹے، تیز اور اچانک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی 82ویں ایئر بورن ڈویژن ایک مضبوط فورس ہے، لیکن اس کی محدود تعداد اسے ایسے حملوں کے لیے حساس بنا دیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے حالیہ دنوں میں 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا ہے، جن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے جنگ بندی کے لیے مجبور کرنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی تعیناتی ایران کے لیے ایک موقع بھی بن سکتی ہے، جہاں وہ امریکی افواج کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔

آئزن سٹیڈ کے مطابق اگر بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیاں کم بھی ہو جائیں تو خطرہ ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیج اور دیگر علاقوں میں گوریلا حملے، ڈرون کارروائیاں اور “گرے زون” سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں، جو طویل عرصے تک عدم استحکام کا باعث بنیں گی۔
ماہرین نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد بھی عراق کو طویل عرصے تک کنٹرول میں رکھنا پڑا تھا، اسی طرح ایران کے معاملے میں بھی جنگ کے بعد غیر روایتی خطرات باقی رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوجی تعیناتی ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے اور اسے امریکی شرائط پر جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام امریکہ کو ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے بھی آپشن فراہم کرتا ہے، خاص طور پر خارگ جزیرے جیسے اہم مقامات پر۔

ماہرین کے مطابق اگر زمینی آپریشن کیا گیا تو امریکی ایئر بورن فورسز اور میرین یونٹس مشترکہ طور پر اہم علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم ایسے آپریشنز خطرناک اور پیچیدہ ہوں گے۔
ایران نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی فوجی نقل و حرکت کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی حکمت عملی روایتی جنگ سے ہٹ کر زیادہ لچکدار اور غیر متوقع ہو سکتی ہے، جس میں چھوٹے مگر مؤثر حملے شامل ہوں گے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں براہ راست جنگ کے بجائے غیر روایتی اور طویل المدتی جھڑپیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، اور یہی عنصر اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔



