
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت یکطرفہ طور پر امن منصوبہ مسلط نہیں کر سکتا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
جاپان میں تعینات ایرانی سفیر پیمان سعادت نے کہا ہے کہ امن عمل صرف اس صورت ممکن ہے جب دونوں فریق برابری کی بنیاد پر بات چیت کریں۔ ان کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا کہ امریکہ اپنی شرائط پیش کرے اور ایران سے ان پر عمل درآمد کی توقع رکھے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے متضاد اشارے مل رہے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن جنگ بندی اور سفارتی حل کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران مسلسل محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد ہے، جس کے باعث کسی بھی پیش رفت میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران اسے نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے اب وہ کسی بھی نئی تجویز کو بغیر ٹھوس ضمانت کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگرچہ سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن کسی واضح نتیجے تک پہنچنے کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی یا امن معاہدے کے امکانات ابھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری اس تنازع کے حل کے لیے متحرک ہے، جبکہ جاپان، ترکی اور دیگر ممالک پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد بحال نہ ہوا تو نہ صرف جنگ طویل ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور علاقائی استحکام پر بھی پڑیں گے۔
مجموعی طور پر ایران کا حالیہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ بحران کا حل صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ متوازن اور باہمی اعتماد پر مبنی سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔



