امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا دعویٰ، ایران معاہدے کے لیے تیار، تہران نے مذاکرات مسترد کر دیے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر مذاکرات کی تردید کر دی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خفیہ طور پر بات چیت کرنا چاہتی ہے، لیکن اندرونی دباؤ کے باعث اس کا اعتراف نہیں کر رہی۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ کچھ پیغامات ثالث ممالک کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں، جنہیں مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تقریباً ایک ماہ سے جاری اس جنگ کے اثرات عالمی سطح پر شدت اختیار کر چکے ہیں۔ توانائی بحران، ایندھن کی قلت اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے دنیا بھر میں معیشت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا بڑا حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے، عملی طور پر بند ہونے کے قریب ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو خوراک اور توانائی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے ایک 15 نکاتی منصوبہ ایران کو پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور میزائل پروگرام پر پابندیاں شامل ہیں۔ تاہم ایران نے اس پر محتاط ردعمل دیا ہے اور مزید شرائط بھی پیش کی ہیں، جن میں لبنان کو بھی کسی ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا شامل ہے۔

ادھر پاکستان اور دیگر ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بعض ایرانی رہنماؤں کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے بھی کردار ادا کیا تاکہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو۔

دوسری جانب عالمی سطح پر اس جنگ کے اثرات مزید واضح ہو رہے ہیں۔ کاروباری ادارے، ایئر لائنز اور سپلائی چین سے وابستہ کمپنیاں بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو کروڑوں افراد خوراک کی شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

امریکی عوام میں بھی اس جنگ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے، جہاں ایک حالیہ سروے کے مطابق اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک وسیع جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی کم کر کے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

مجموعی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کشمکش بھی شدت اختیار کر گئی ہے، اور دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ بحران مزید بڑھے گا یا کسی معاہدے کی صورت نکلے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button