
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث جہاں کئی ممالک کو توانائی بحران کا سامنا ہے، وہیں ایران کے لیے تیل کی برآمدات غیر معمولی مالی فائدہ لے کر آئی ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد تیل کی فروخت سے سینکڑوں ملین ڈالر اضافی آمدنی حاصل کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس وقت شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے میں ایران وہ واحد بڑا ملک بن کر سامنے آیا ہے جو اس راستے کے ذریعے اپنی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا، جس کا اسے براہ راست مالی فائدہ ہو رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے بھی ایران کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے باعث خام تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں ایران نہ صرف زیادہ قیمت پر تیل فروخت کر رہا ہے بلکہ مارکیٹ میں اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو اس بحران سے دوہرا فائدہ حاصل ہو رہا ہے: ایک طرف قیمتوں میں اضافہ اور دوسری طرف سپلائی میں کمی کے باعث اس کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر وہ ممالک جو خلیج سے تیل درآمد کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ، صنعت اور زرعی شعبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ کئی ممالک ہنگامی اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ توانائی بحران کو کنٹرول کیا جا سکے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔
مجموعی طور پر ایران کے لیے یہ صورتحال قلیل مدت میں مالی فائدہ لے کر آئی ہے، مگر طویل مدت میں خطے کی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔



