
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لبنان سے اسرائیل کے خلاف حملوں میں اچانک شدت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں حزب اللہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 600 سے زائد راکٹ، مارٹر اور ڈرون حملے کیے ہیں، جو حالیہ برسوں میں کسی بھی ایک دن کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کا زیادہ تر نشانہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی پوزیشنز تھیں، جہاں زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد اس سے پہلے کے ریکارڈ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، جو اس جنگ کے دوران روزانہ اوسطاً 100 حملوں کے قریب تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں میں یہ اچانک اضافہ ممکنہ طور پر ایک حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور امریکہ پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی پر مجبور کرنا ہے یا اسرائیلی افواج کو جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر دریائے لیتانی تک اپنی موجودگی برقرار رکھے گی تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا دباؤ بڑھایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی افواج کے لبنان کے اندر مزید آگے بڑھنے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف اس سے حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی رینج محدود ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف اسرائیلی فوج خود حزب اللہ کے قریب آ کر زیادہ خطرے میں آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حزب اللہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں مسلسل حملے کرنا طویل مدت تک ممکن نہیں، تاہم اس قسم کے شدید حملے وقتی طور پر جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران-اسرائیل جنگ کے ساتھ ساتھ لبنان کا محاذ بھی تیزی سے گرم ہو رہا ہے، اور کسی بھی وقت یہ تنازع مزید وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے۔



