
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے ایک نئی زمینی حقیقت قائم کرنا شروع کر دی ہے، جہاں "یلو لائن” نامی علیحدگی لائن اب عملی طور پر ایک مستقل سرحد میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق اسرائیلی فوج نے حالیہ مہینوں میں اس لائن کے ساتھ ساتھ درجنوں نئی چوکیاں قائم کی ہیں، جبکہ کئی کلومیٹر طویل زمینی رکاوٹ (بیریئر) بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت فوج نے علاقے میں انفراسٹرکچر، سڑکیں اور دیگر سہولیات بھی قائم کر لی ہیں، جس سے طویل المدتی موجودگی کے اشارے مل رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے تقریباً 50 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ باقی حصہ حماس کے زیر اثر ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں اس کنٹرول میں مزید اضافہ کیا گیا ہے، جس کے باعث فلسطینی آبادی کے زیر استعمال زمین مزید محدود ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس علیحدگی لائن کے قریب کے علاقے کو "فائر زون” قرار دیا گیا ہے، جہاں مسلسل فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات جاری ہیں۔ اس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔
غزہ کی تقریباً 21 لاکھ آبادی اب محدود علاقے میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں لاکھوں افراد عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔ بنیادی سہولیات کی کمی اور انسانی بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی قیادت کے مطابق یہ "یلو لائن” ایک دفاعی لائن کے طور پر قائم کی جا رہی ہے تاکہ سرحدی علاقوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں مستقل فوجی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس لائن کو مستقل شکل دی گئی تو مستقبل میں کسی بھی امن معاہدے یا فوجی انخلا کے امکانات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن یا طریقہ کار سامنے نہیں آیا۔
مجموعی طور پر غزہ کی موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اور اس کے انسانی، سیاسی اور سیکیورٹی اثرات آنے والے وقت میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔



