امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا بڑا بیان: جنگ رک سکتی ہے یا مزید بھڑک سکتی ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے اسی ہفتے کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے اب تک پیش کی گئی تجاویز کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے شعبے پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر 10 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے، تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ یہ مہلت 6 اپریل تک دی گئی ہے، جس دوران جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے مطابق تقریباً 10 ہزار اضافی فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں، جو پہلے سے موجود فوجی دستوں کے علاوہ ہوں گے۔ اس سے قبل 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے 1500 اہلکار خطے میں بھیجے جا چکے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے، جس پر الزام تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس پیش رفت نے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

اسی تناظر میں ایران نے واضح کیا ہے کہ جنوبی کوریا جیسے "غیر مخالف” ممالک کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ جنوبی کوریا میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کو اس وقت آبنائے کے قریب موجود غیر ملکی جہازوں کی مکمل تفصیلات درکار ہیں۔ جنوبی کوریا کے مطابق اس کے کم از کم 26 جہاز اس علاقے میں موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا خطہ مزید کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button