
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران میں جاری جنگی صورتحال کے دوران ملک کے اندر ایٹمی پالیسی پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں سخت گیر حلقے کھل کر ایٹمی ہتھیار بنانے کے حق میں آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ بحث اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور عوامی سطح پر بھی سامنے آ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں طاقت کا توازن بدلنے کے بعد پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب جنگ کے آغاز میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔ اس تبدیلی کے بعد سخت مؤقف رکھنے والے عناصر کی رائے کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے، جو ایران کی ایٹمی پالیسی میں بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔
ماضی میں ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کی بنیاد مذہبی اصولوں پر رکھی گئی تھی، جہاں ایٹمی ہتھیاروں کو غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا۔ اسی مؤقف کے تحت ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا حصہ بھی رہا ہے۔

تاہم موجودہ حالات میں کچھ حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب ایران کو بیرونی حملوں اور دباؤ کا سامنا ہے تو کیا پرانی پالیسی برقرار رکھنا درست ہے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ ابھی تک ایران نے باضابطہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن پالیسی میں تبدیلی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں اور دباؤ کو اس بحث کا اہم سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ایرانی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے اور کچھ پالیسی ساز اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کیے بغیر ملک کی سیکیورٹی یقینی بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے، کیونکہ اگر ایران نے جوہری پروگرام کی سمت تبدیل کی تو اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایک نئے جوہری بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی امن اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران کی قیادت کو ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا، جو نہ صرف اس کی دفاعی پالیسی بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔



