امریکاتازہ ترین

سرمایہ کاروں میں خوف، امریکی اسٹاک مارکیٹ تیزی سے نیچے آگئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے اثرات اب عالمی معیشت پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں، جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کو جنگ کے آغاز کے بعد اپنی سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اہم امریکی انڈیکس S&P 500 میں ایک ہی دن میں تقریباً 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ ہفتوں کی سب سے نمایاں مندی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور جنگ کے غیر یقینی دورانیے سے متعلق خدشات ہیں۔

سرمایہ کار اس وقت شدید دباؤ میں ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی اور ٹیکنالوجی شعبوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے بیانات نے بھی مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھایا، جس کے بعد فروخت کا رجحان تیز ہو گیا۔ کچھ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جیسے سونا اور دیگر کم خطرے والے اثاثے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی مارکیٹ مجموعی طور پر نیچے کی جانب جا رہی ہے، اور S&P 500 اپنے حالیہ عروج سے نمایاں حد تک نیچے آ چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار طویل المدتی عدم استحکام سے خوفزدہ ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا جنگ طول پکڑ گئی تو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جغرافیائی تنازعات کس طرح عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، اور آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ بڑی حد تک سیاسی اور عسکری پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button