
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں موجود ایران سے منسلک حوثی جنگجو باب المندب کی اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ وارننگ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب ایران کی جانب سے جاری جنگ کے دوران عالمی شپنگ روٹس پر دباؤ بڑھانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ باب المندب، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے، دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے یورپ اور ایشیا کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ایک باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی گروہ پہلے بھی اس علاقے میں جہازوں پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث شپنگ سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ان حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر سپلائی چین، تیل کی قیمتوں اور تجارتی لاگت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کرنے والے ممالک اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا ہے، جس سے سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اہم سمندری راستے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی برادری کی توجہ ان حساس گزرگاہوں پر مرکوز ہے، جہاں کسی بھی نئی پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



