
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کو بھی متاثر کیا ہے، اور ایک نئی سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں رہنے والے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ایران کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد سمجھتی ہے۔
یہ سروے "جیوش پیپل پالیسی انسٹی ٹیوٹ” کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی یہودیوں نے ایران کے حوالے سے نیتن یاہو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 46 فیصد نے ٹرمپ کو ترجیح دی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فرق معمولی نظر آ سکتا ہے، لیکن موجودہ جنگی حالات میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف اسرائیل کی حکمت عملی ہے، جس میں خفیہ معلومات، درست ٹارگٹنگ اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو اہمیت دی گئی ہے۔ کئی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ایران کے خطرے کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک مضبوط اور جارحانہ لیڈر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں صرف بیانات یا طاقت کا اظہار کافی نہیں، بلکہ مستقل حکمت عملی اور صبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

سروے کے دیگر نتائج بھی قابل توجہ ہیں، جن کے مطابق تقریباً 62 فیصد افراد ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت کرتے ہیں، اگرچہ ابتدائی دنوں کے مقابلے میں اس حمایت میں کچھ کمی آئی ہے۔ مزید برآں، تقریباً نصف شرکاء کا ماننا ہے کہ جنگ کی کامیابی کا اصل معیار ایران میں سیاسی تبدیلی ہو سکتا ہے۔
تاہم اس حمایت کے ساتھ خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی یہودیوں کو خدشہ ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکا میں یہود مخالف جذبات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ 56 فیصد کا خیال ہے کہ اس سے اسرائیل کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج ایک پیچیدہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں لوگ ایک طرف سخت مؤقف کی حمایت کرتے ہیں تو دوسری جانب اس کے ممکنہ منفی اثرات سے بھی آگاہ ہیں۔ اسی طرح بڑی تعداد میں افراد کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ فوری امن معاہدہ ممکن نہیں، لیکن طویل مدتی حل کی ضرورت اپنی جگہ برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سروے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی یہودی رائے دہندگان اب زیادہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اختیار کر رہے ہیں، جہاں وہ سیکیورٹی، حکمت عملی اور نتائج کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، بجائے صرف سیاسی نعروں یا نظریاتی مؤقف کے۔
موجودہ صورتحال میں یہ رجحان نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی سطح پر عوامی رائے کس سمت میں جاتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔



