
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری جنگ اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو یہ جنگ ایک محدود تصادم سے نکل کر وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد امریکا کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں اب توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کا بڑا حصہ تیل گزرتا ہے۔
اگرچہ امریکا اور اسرائیل ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان میں سے کئی حملوں کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز سے نہیں ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی بھی شامل ہے۔

ایران بھی مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے اثرات نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیجی ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں سعودی عرب کے فوجی اڈوں اور دبئی میں بلند عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کو ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے، جہاں وہ ایک طرف اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور دوسری جانب براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ تاہم اگر حملے جاری رہے تو ان ممالک کی شمولیت کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
موجودہ حالات میں یہ واضح ہو رہا ہے کہ ایران جنگ صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔



