
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری جنگ اور عالمی توانائی بحران کے خدشات کے درمیان چین نے ایک اہم حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے امریکا سے تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں چین کو بھیجے جانے والے امریکی خام تیل کی مقدار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
توانائی کی ترسیل پر نظر رکھنے والے ادارے "کپلر” کے مطابق اس عرصے میں امریکا سے چین جانے والے خام تیل کی مقدار تقریباً 18 ملین بیرل تک پہنچ گئی، جو ماضی کے تمام ریکارڈ توڑنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے طویل وقفے کے بعد دوبارہ امریکی تیل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی بھی موجود رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اس اقدام کے ذریعے ممکنہ توانائی بحران سے بچنے کے لیے پیشگی تیاری کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت درجنوں آئل اور گیس ٹینکرز چین سے امریکا کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جو خالی حالت میں وہاں پہنچ کر تیل لوڈ کریں گے۔ توقع ہے کہ یہ سلسلہ مئی کے آخر تک جاری رہے گا، جس کے بعد تیل کی ترسیل میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تمام معاہدے مکمل ہو گئے تو امریکا سے چین کو یومیہ اوسطاً 560 ہزار بیرل تیل فراہم کیا جائے گا، جو نہ صرف گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے بلکہ 2020 کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اس حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف اپنی توانائی ضروریات کو محفوظ بنا رہا ہے بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس کے پاس متبادل سپلائی موجود ہو۔
دوسری جانب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے، جہاں محدود نقل و حرکت اور سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے بعض پابندیوں اور جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کا یہ اقدام عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے، جہاں ممالک اب اپنی توانائی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے روایتی شراکت داریوں سے ہٹ کر نئے راستے اختیار کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت مستقبل میں عالمی تجارتی اور توانائی تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔



