تازہ ترینعالمی خبریں

ابراہیم معاہدے ٹوٹنے کے قریب؟ نیتن یاہو پر یو اے ای کا اعتماد کمزور

ابوظہبی/تل ابیب — اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طے پانے والے تاریخی ابراہیم معاہدے اس وقت شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق یو اے ای کی قیادت اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں، سخت گیر بیانات اور سفارتی غلطیوں سے مسلسل نالاں ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تعلقات میں سب سے بڑا بحران 9 ستمبر 2025 کو سامنے آیا، جب اسرائیلی فضائیہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جہاں حماس کے رہنماؤں کی موجودگی بتائی گئی۔ یہ کارروائی ابو ظہبی میں شدید ناراضی کا سبب بنی۔ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید نے فوری طور پر ہنگامی اجلاس بلا کر ردِعمل پر غور کیا، جہاں ابراہیم معاہدوں کو منجمد کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی، اگرچہ بعد میں اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو “غیر ذمہ دارانہ، جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدام” قرار دیا۔ اس کے بعد دبئی میں ہونے والے ایک بڑے ایئر شو میں اسرائیلی دفاعی صنعتوں کی شرکت منسوخ کر دی گئی، جبکہ اسرائیلی سفیر یوسی شیلی کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

سب سے واضح سفارتی پیغام اس وقت دیا گیا جب شیخ محمد بن زاید نے حملے کے اگلے ہی دن قطر کا دورہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، قطر کے ساتھ ماضی کے کشیدہ تعلقات کے باوجود یہ دورہ اسرائیل کے لیے ایک واضح اشارہ تھا کہ یو اے ای کی صبر کی حدیں ختم ہو رہی ہیں۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یو اے ای کو اسرائیل کے ساتھ معاشی تعاون سے متوقع فوائد حاصل نہیں ہو سکے۔ ناکام کاروباری معاہدے، بعض اسرائیلی وزرا کے انتہا پسندانہ بیانات، غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل پر غیر واضح اسرائیلی پالیسی اور نیتن یاہو پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد اس مایوسی کی بڑی وجوہات ہیں۔

اگرچہ یو اے ای کھلے عام ناراضی کا اظہار نہیں کرتا، تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق اماراتی قیادت یہ سوال اٹھانے لگی ہے کہ ابراہیم معاہدوں کی انہیں اصل میں کیا قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، خطے میں ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے بڑھتے سکیورٹی خطرات اور فلسطینی مسئلے پر عوامی دباؤ نے بھی اماراتی قیادت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابراہیم معاہدوں نے اگرچہ اسرائیل اور یو اے ای کو خطے میں اہم سفارتی اور سکیورٹی فوائد دیے، لیکن باہمی اعتماد میں کمی اور سیاسی غلطیوں کے باعث ان معاہدوں کی اصل صلاحیت اب تک پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔ بعض تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رویہ برقرار رہا تو یہ تاریخی معاہدے ایک سنگین بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سفارتی مبصرین کے مطابق، دونوں ممالک کے تعلقات کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اسرائیلی قیادت یو اے ای کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے یا نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button