امریکاتازہ ترین

کیا امریکا ایران کے میزائل لانچرز روکنے کے لیے بارودی سرنگیں گرا رہا ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران نے امریکا پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کے جنوبی علاقے میں واقع ایک حساس میزائل تنصیب کے قریب فضاء سے اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں گرا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد بظاہر عام خوراک کے ڈبوں جیسا دکھائی دیتا ہے، لیکن کھولنے پر پھٹ جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مواد شیراز کے نواحی علاقوں، خصوصاً کافری نامی گاؤں کے قریب گرا، جہاں چند افراد کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں جن بارودی سرنگوں کو دکھایا گیا ہے، ماہرین کے مطابق وہ امریکی ساختہ BLU-91/B اینٹی ٹینک مائنز سے مشابہت رکھتی ہیں۔ اوپن سورس تحقیقاتی گروپ بیلنگ کیٹ نے کچھ تصاویر کو جغرافیائی طور پر شیراز کے قریب ایک ایسے علاقے سے منسلک کیا ہے جہاں ایران کی زیرِ زمین میزائل تنصیبات، جنہیں غیر رسمی طور پر “میزائل سٹیز” کہا جاتا ہے، واقع ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ ایران ان زیرِ زمین تنصیبات کو اپنے میزائل پروگرام کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے، جہاں سے میزائل لانچرز کو ضرورت کے مطابق باہر نکال کر فائر کیا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ان تنصیبات پر فضائی حملوں کے باوجود ایران مختلف علاقوں میں میزائل فائر کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی ان علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو اس کا مقصد میزائل لانچرز کی نقل و حرکت محدود کرنا ہو سکتا ہے۔ ایسی حکمت عملی کو “ایریا ڈینائل” کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مخصوص علاقوں کو دشمن کے لیے ناقابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔ خاص طور پر زیرِ زمین تنصیبات کے داخلی راستوں کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے سے بھاری مشینری کی رسائی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے میزائل سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں۔

تاہم اس معاملے کا ایک اہم انسانی پہلو بھی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس قسم کے دھماکہ خیز مواد سے عام شہریوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ لاعلمی میں انہیں ہاتھ لگائیں۔ اگرچہ BLU-91 مائنز میں عام طور پر اینٹی ہینڈلنگ فیچرز نہیں ہوتے، لیکن پھر بھی یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ مائنز مقررہ وقت کے بعد خود بخود ناکارہ ہو جاتی ہیں، تاہم ان میں ناکامی کی شرح بھی موجود ہوتی ہے، جس سے طویل مدتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے براہ راست کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ اس خاموشی نے صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں اگر جاری ہیں تو وہ ایک وسیع تر فوجی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب کچھ ماہرین اس امکان کو بھی رد نہیں کرتے کہ یہ مواد کسی اور ذریعے سے بھی وہاں پہنچایا گیا ہو، یا ممکنہ طور پر پروپیگنڈا مقاصد کے لیے رکھا گیا ہو۔ اس لیے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں روایتی فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر نقل و حرکت کو محدود کرنے کی حکمت عملی بھی زیرِ غور آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ واقعہ ایک الگ تھلگ دعویٰ ہے یا کسی بڑی فوجی حکمت عملی کا حصہ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button