
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یوکرین اور سعودی عرب نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات سے قبل طے پایا، جس میں مستقبل کے دفاعی منصوبوں، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی بنیاد رکھی گئی۔
یوکرینی حکام کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی صنعت میں تعاون کو وسعت دے گا بلکہ یوکرین کے عالمی کردار کو بھی مضبوط بنائے گا، خاص طور پر ایک ایسے ملک کے طور پر جو سکیورٹی کے شعبے میں تجربہ رکھتا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی نظام اور مہارت شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

یوکرین نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے جدید دفاعی نظام اور ٹیکنالوجی پر کام کرنا چاہتا ہے۔ یوکرینی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے، اور اسی تجربے کی بنیاد پر وہ دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
ماہرین کے مطابق یوکرین کو روس کے ساتھ جاری تنازع کے دوران جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی میں خاصا تجربہ حاصل ہوا ہے، جسے اب وہ عالمی سطح پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب بھی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون باہمی فائدے کا حامل ہو سکتا ہے۔

ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی مجموعی صورتحال، ایران سے متعلق خدشات، اور توانائی کے عالمی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ممکنہ توانائی تعاون اور مستقبل میں مشترکہ منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک دفاعی شراکت داری کے ذریعے اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان یہ پیش رفت نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں وسیع تر تعاون کے امکانات بھی پیدا کرے گی۔



