
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اپنے اہم اہداف زمینی فوج بھیجے بغیر حاصل کر سکتا ہے، اور امکان ہے کہ یہ آپریشن چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔
پیرس میں جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے خلاف اپنے طے شدہ اہداف میں تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان اہداف میں ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام، ان کی تیاری کی فیکٹریاں، بحری اور فضائی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
روبیو نے دعویٰ کیا کہ “ہم زیادہ تر اہداف میں شیڈول سے آگے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے زمینی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمت عملی فضائی حملوں، انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی دراصل ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک احتیاطی اقدام ہے، تاکہ اگر حالات مزید بگڑیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہوں۔ تاہم انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا کی موجودہ حکمت عملی “ریموٹ وارفیئر” یعنی دور سے جنگ لڑنے کے تصور پر مبنی ہے، جس میں ڈرونز، میزائل حملے اور سائبر صلاحیتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے زمینی جنگ کے خطرات اور جانی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوسری جانب کچھ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ ابتدائی اہداف فضائی طاقت کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں زمینی کنٹرول کے بغیر مکمل کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید تبدیل کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع خطے کے امن اور عالمی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔



