
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایرانی میزائل امریکی بحریہ کے ایف/اے-18 لڑاکا طیارے کے انتہائی قریب پہنچ گیا، تاہم طیارہ آخری لمحے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ یہ واقعہ ایران کے جنوبی علاقے چاہ بہار کے قریب پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے، اگرچہ اس کی مکمل آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز، جنہیں اوپن سورس تجزیہ کاروں نے جغرافیائی طور پر چاہ بہار کے علاقے سے منسلک کیا ہے، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ پرواز کر رہا ہے جبکہ اس کے پیچھے ایک میزائل پھٹتا ہے۔ ویڈیو میں طیارے کو کوئی واضح نقصان پہنچنے کے آثار نظر نہیں آتے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے اس طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرایا نہیں گیا۔ دوسری جانب ایک ذریعے نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایک ایف/اے-18 طیارہ واقعی ایک ایرانی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے بال بال بچا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فضائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے قریب سے ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام امریکی طیاروں کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن چکے ہیں، خاص طور پر جب جدید میزائل ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہو۔
اسی تناظر میں ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا ہے جس میں ایک امریکی ایف-35 اسٹیلتھ طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ ممکنہ طور پر ایرانی فائرنگ کی زد میں آیا تھا، جو اس جاری تنازع میں امریکی فضائی اثاثوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی ایک اہم مثال ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی فضائی برتری اب بھی برقرار ہے، لیکن ایران کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور مربوط دفاعی نظام کا استعمال خطے میں فضائی جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی غلطی یا حادثاتی تصادم کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف زمینی یا سمندری محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ فضائی محاذ پر بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی سکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔


